نئی دہلی ،29؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ مالی سال 2016-17کے دوران ملک کی اقتصادی رفتار سست ہوئی ہے۔جمعہ کو وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ ہندوستان کی جی ڈی پی 2015-16میں 8فیصد کے مقابلے 2016-17میں گر کر 7.1 فیصد پر پہنچ گئی۔جیٹلی نے کہا کہ اقتصادی رفتار سست ہونے کی وجہ انڈسٹری اور سروس سیکٹر میں بھی تیزی نہیں آئی جس کے پیچھے کئی وجوہات پنہاں تھے۔لوک سبھا میں سوال کے دوران جیٹلی نے کہاکہ2016 میں عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہنے کے ساتھ ساتھ جی ڈی پی کے مقابلے کم فکسڈ سرمایہ کاری، کارپوریٹ سیکٹر کی دباؤ والی بیلنس شیٹ، انڈسٹری سیکٹر کے کریڈٹ نمو میں کمی اور بہت سے مالیاتی وجوہات کی وجہ سے اقتصادی رفتار سست رہی۔مرکزی شماریات تنظیم(سی ایس او) کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 2014-15 میں 7.5 فیصد، 2015-16 میں 8فیصد اور 2016-17 میں 7.1 فیصد رہی۔مالی سال 2017-18 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 5.7 فیصد اور 6.3 فیصد رہی۔جیٹلی نے دعوی کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی طرف تقریبا سلوڈاؤن کے باوجود ہندوستان2016 میں سب سے تیزی سے بڑھنے والے معیشت تھی اور 2017میں معیشت کے معاملے میں دوسرے نمبر پرتھا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کی رفتار بڑھانے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں جس میں کچھ صنعتوں کو خصوصی پیکیج تک شامل ہے۔